Thursday, February 19, 2026

صحت مند رمضان کے لیے چند رہنما نکات

صحت مند رمضان کے لیے چند رہنما نکات

ڈاکٹر حبیب حارث

 زیرِ بحث موضوعات

  • رمضان کی تیاری (ذہنی، جسمانی اور روحانی)

  • روزے کے دوران توانائی برقرار رکھنے کے طریقے

  • پانی کی کمی (ڈی ہائیڈریشن) سے بچنے کی حکمتِ عملیاں

  • رمضان کے سر درد اور چائے/کافی چھوڑنے کی کیفیت سے نمٹنا

  • مثالی سحری اور افطار

  • بیماری کی حالت میں روزہ رکھنے کے مسائل

  • رمضان کو صحت مند طرزِ زندگی کی طرف ایک پل بنانا


ذہنی تیاری

نوسیبو (Nocebo) ایفیکٹ

نوسیبو اثر یہ ہے کہ کسی چیز کے بارے میں منفی توقعات رکھنے کی وجہ سے وہ چیز آپ پر واقعی زیادہ منفی اثر ڈالنے لگتی ہے، حالانکہ اصل میں اتنی نقصان دہ نہ ہو۔

بہت سے لوگوں کے لیے رمضان کے روزوں کو “بہت مشکل” سمجھنا ہی اُن کے لیے روزے کو اصل سے کہیں زیادہ مشکل بنا دیتا ہے۔

میڈیکل لٹریچر میں ایسے تجربات موجود ہیں جن میں مریضوں کو خالی گولی دی گئی اور ساتھ بتایا گیا کہ اس سے فلاں فلاں سائیڈ ایفیکٹس ہوں گے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ بہت سے لوگوں نے وہی سائیڈ ایفیکٹس محسوس کیے، حالانکہ گولی میں دوائی تھی ہی نہیں۔ اسی طرح جب ہمیں بار بار بتایا جاتا ہے کہ رمضان کے روزے بہت مشکل ہیں تو ہم بھی اس توقع کی وجہ سے زیادہ مشقت محسوس کرتے ہیں۔

  • اگر آپ یقین رکھیں کہ رمضان کے روزے قابلِ برداشت اور سنبھالنے کے قابل ہیں تو واقعی آپ کے لیے وہ نسبتاً آسان ہو جائیں گے ۔

  • اگر آپ یہ سمجھیں کہ رمضان کے روزے بہت زیادہ مشکل ہیں تو وہ آپ کے لیے اصل سے زیادہ مشکل محسوس ہوں گے (nocebo اثر)۔

نبی ﷺ نے فرمایا:
“اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق ہوتا ہوں ”
(صحیح بخاری و صحیح مسلم)


ہم فطری طور پر روزے کے لیے بنائے گئے ہیں

انسانی جسم میں کافی مقدار میں ایندھن  موجود ہوتا ہے، اس لیے رمضان کے روزے (روزانہ چند گھنٹے کا فاقہ) سے آپ 'بھوک سے مر' نہیں جائیں گے۔
اگر آپ کا جگر صحت مند ہو تو روزہ کے دوران خوف اور نوسیبو سوچ کی کوئی حقیقی ضرورت نہیں۔

انسان کے جسم میں عموماً:

  • جگر میں تقریباً 100 گرام گلائیکوجن (glycogen)

  • پٹھوں میں تقریباً 500 گرام گلائیکوجن

  • سحری سے حاصل شدہ خوراک

  • چربی کی شکل میں فری فیٹی ایسڈز (Fatty Acids) جو دل اور عضلات براہِ راست بطور ایندھن استعمال کر سکتے ہیں

  • جگر کی صلاحیت کہ وہ کیٹونز (ketones) بنائے


یہ سب مل کر جسم کو روزے کے دوران مسلسل توانائی فراہم کرنے کے لیے کافی ہوتے ہیں۔


جسمانی اور میٹابولک تیاری

رمضان سے پہلے روزے رکھنا

جسم کو روزے کے دوران بہترین انداز میں ایندھن استعمال کرنا سکھانے کا سب سے مؤثر طریقہ خود روزہ ہے۔

عملاً جو چیزیں رمضان سے چند ہفتے پہلے آہستہ آہستہ شروع کی جا سکتی ہیں:

  • دوپہر کا کھانا چھوڑ دینا اور ناشتہ اور رات کے کھانے کے درمیان وقفہ بڑھانا

  • رمضان سے پہلے  نفلی/ٹرائل کی نیت سے سنت روزے (مثلاً پیر، جمعرات کے روزے اور ہر قمری مہینے کی 13، 14، 15 تاریخوں کے روزے)

  • دائمی بیماریوں کے مریضوں کے لیے رمضان سے پہلے “ٹرائل روزہ” ڈاکٹر کے مشورے سے


پہلے سے روزے رکھنے سے جگر کے وہ خلیاتی انزائمز بہتر ہو جاتے ہیں جو روزے کے دوران جسم کی ضروریات کے لیے ایندھن تیار کرتے ہیں اور جسم کو روزے کا عادی بنا دیتے ہیں۔


روحانی تیاری

رمضان کا شوق اور دعا

  • رمضان کا استقبال دل سے کرنا، اس کا شوق اور انتظار رکھنا۔

  • رمضان تک پہنچنے کی دعائیں:

“اللّٰھم بلغنا رمضان”
(بیہقی فی شعب الایمان، طبرانی فی الاوسط)

سلفِ صالحین کا معمول تھا کہ وہ چھ مہینے رمضان تک پہنچنے کی دعا کرتے اور پھر چھ مہینے اس رمضان کی قبولیت کے لیے دعا کرتے۔

ان کی ایک دعا یہ تھی:
“اَللّٰهُمَّ سَلِّمْنِیْ لِرَمَضَانَ، وَسَلِّمْ رَمَضَانَ لِیْ، وَتَسَلَّمْهُ مِنِّیْ مُتَقَبَّلًا”
(اے اللہ! مجھے رمضان تک سلامت پہنچا، رمضان کو میرے لیے سلامت رکھ، اور اسے مجھ سے قبول فرما) (لطائف المعارف، ص 148)

شعبان میں روزے

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
“میں نے رسول اللہ ﷺ کو شعبان کے مہینے سے زیادہ کسی اور مہینے میں روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا۔”
(صحیح مسلم: 1156)

حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:
میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ! میں نے آپ کو کسی مہینے میں اتنے روزے رکھتے نہیں دیکھا جتنا آپ شعبان میں رکھتے ہیں؟
آپ ﷺ نے فرمایا:
“یہ ایسا مہینہ ہے جس میں لوگ غفلت برتتے ہیں، جو رجب اور رمضان کے درمیان آتا ہے، یہ وہ مہینہ ہے جس میں اعمال ربّ العالمین کی طرف اٹھائے جاتے ہیں اور میں پسند کرتا ہوں کہ میرا عمل اس حال میں اٹھایا جائے کہ میں روزے کی حالت میں ہوں۔”
(نسائی و ابوداؤد، حسن)


روزے کے دوران توانائی برقرار رکھنا

  • درست، متوازن اور صحت مند سحری جسم کو ایندھن فراہم کرنے کے لیے نہایت اہم ہے۔

  • ہلکی پھلکی جسمانی سرگرمی (جیسے تیز قدمی) الٹا جسم کو مزید سیلولر توانائی فراہم کر سکتی ہے۔

  • بعض ایسے افراد جو توانائی یا ایندھن کے مسئلے سے بہت زیادہ پریشان رہتے ہیں، ان کے لیے L‑Carnitine یا MCT oil جیسے سپلیمنٹس مفید ہو سکتے ہیں (ڈاکٹر کے مشورے سے)۔


 سر درد

اکثر لوگوں میں رمضان کے دوران سر درد کی وجہ درج ذیل میں سے ایک یا کئی چیزوں کا مجموعہ ہوتی ہے:

  1. دماغ کے لیے ایندھن/گلوکوز کی کمی

  2. بلڈ پریشر کا کم ہو جانا

  3. کیفین (چائے/کافی) چھوڑنے کی علامات

  4. نیند کی کمی

یہ چیزیں بہت سے لوگوں کے لیے رمضان میں غیر ضروری تکلیف کا باعث بنتی ہیں۔

  • جن لوگوں کو پہلے سے مائیگرین یا مخصوص قسم کے سر درد کا مسئلہ ہو وہ خاص طور پر حساس ہوتے ہیں۔ انہیں چاہیے کہ اپنے معالج کے ساتھ بیٹھ کر رمضان کے لیے حکمتِ عملی بنائیں، مثلاً پین کلر پیچ (skin patches) وغیرہ۔

  • جو لوگ سگریٹ یا نکوٹین استعمال کرتے ہیں انہیں بھی دن میں withdrawal کے اثرات ہوتے ہیں۔ انہیں ڈاکٹر کے مشورے سے نکوٹین پیچ وغیرہ جیسے متبادل پر غور کرنا چاہیے۔


کیفین (چائے/کافی)

اگر کوئی شخص اچانک چائے یا کافی چھوڑ دے تو اسے درج ذیل علامات ہو سکتی ہیں:

  • سر درد

  • موڈ کا بگڑ جانا، اداسی

  • توجہ میں مشکل

  • چڑچڑاپن

اگر آپ چائے/کافی کے عادی ہیں تو رمضان میں آپ کے پاس تین میں سے ایک راستہ ہے:

  1. رمضان سے تقریباً 7–10 دن پہلے آہستہ آہستہ کیفین کم کر کے بالکل بند کر دیں۔

  2. رمضان میں سحری کے وقت اپنے معمول کے مطابق چائے/کافی وغیرہ لے لیں۔

  3. سحری پر extended‑release کیفین  (capsules) استعمال کریں جو دن بھر آہستہ آہستہ کیفین فراہم کرے (ڈاکٹر کے مشورے سے)۔

کیفین آہستہ آہستہ چھوڑنے کا طریقہ

اگر کوئی روزانہ 2 کپ کافی پیتا ہے تو مثالاً:

  • دن 1–2: 1 کپ کافی (یعنی آدھی معمول کی مقدار)

  • دن 3–4: ½ کپ (¼ اصل مقدار)

  • دن 5: ¼ کپ کافی یا 1 کپ چائے (مزید کم مقدار)

  • دن 6–10: بالکل کیفین نہ لیں

یہ عمل رمضان شروع ہونے سے پہلے مکمل کرنا بہتر ہے نہ کہ رمضان کے پہلے ہفتے میں۔


نیند کی کمی

  • رمضان میں عموماً نیند متاثر ہو جاتی ہے۔

  • Polyphasic sleep (یعنی رات + دن میں تقسیم شدہ نیند) ایک مناسب حل ہو سکتا ہے۔

  • چھوٹی چھوٹی جھپکیاں (power naps) رمضان میں بہت کارآمد ہیں۔

  • ہر شخص کے حالات مختلف ہیں، اس لیے اپنا الگ لیکن مستقل شیڈول بنانا بہتر ہے تاکہ نیند کی quality بہتر ہو سکے، خواہ quantity کم ہی کیوں نہ ہو۔

نیند بہتر کرنے کے چند اصول:

  1. سونے سے پہلے فون/اسکرین سے اجتناب

  2. بالکل بھرے پیٹ فوراً نہ سونا

  3. روزانہ تقریباً ایک ہی وقت میں سونے اور جاگنے کی کوشش

  4. کمرے کا درجہ حرارت نسبتاً ٹھنڈا رکھنا

کھانا کھانے کے فوراً بعد سونے سے نیند عموماً خراب ہوتی ہے کیونکہ کھانے سے جسم کا درجہ حرارت بڑھتا ہے، جبکہ گہری نیند کے لیے درجہ حرارت کا نسبتی کم ہونا مفید ہے۔ بہتر یہ ہے کہ کھانے کے تقریباً 2–3 گھنٹے بعد سویا جائے، نہ بہت بھوکے اور نہ بہت بھرے پیٹ۔


مناسب پانی کی فراہمی (Hydration)

  • ایک ساتھ بہت زیادہ پانی پی کر hyper‑hydrate ہونے کی کوشش فائدہ مند نہیں۔

  • اتنا پانی پینا کہ پیاس بجھ جائے، عام طور پر کافی ہوتا ہے۔

  • ایسی چیزیں جن میں الیکٹرولائٹس بالخصوص سوڈیم اور گلوکوز موجود ہوں (جیسے ORS، چھاچھ/لسی، اسکِم ملک، کیفِر وغیرہ) جسم کی پانی جذب کرنے کی صلاحیت اور کل جسمانی پانی کی مقدار کو بڑھا سکتی ہیں۔

    • اگر آپ سحری میں ویسے ہی زیادہ نمک والی غذائیں کھا رہے ہیں تو عموماً اضافی الیکٹرولائٹ ڈرنکس کی ضرورت نہیں رہتی۔

  • اگر آپ بلڈ پریشر یا diuretic دوائیں لیتے ہیں یا پہلے ہی بلڈ پریشر کے مسائل ہیں تو اضافی الیکٹرولائٹس سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ ضروری ہے۔

  • اگر آپ بیرونِ خانہ سخت جسمانی محنت یا زیادہ پسینہ والا کھیل کھیلتے ہیں تو الیکٹرولائٹس بڑھانے کی ضرورت ہو سکتی ہے۔

  • افطار پر پیاس بجھنے تک پانی پیجیے، زبردستی ضرورت سے زیادہ نہ پیئے۔


مثالی سحری

سحری کی اہمیت

نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
“سحری ضرور کیا کرو، اس میں برکت ہے۔”
(سنن نسائی 2164، صحیح)

اور فرمایا:
“یہ وہ برکت ہے جو اللہ نے تمہیں دی ہے، لہٰذا اسے ترک نہ کرو۔”
(سنن نسائی 2162، صحیح)

سحری میں تاخیر

آپ ﷺ نے فرمایا:
“ہم انبیاء کی جماعت کو حکم دیا گیا ہے کہ سحری میں تاخیر کریں اور افطار میں جلدی کریں۔”
(صحیح ابن حبان 1770، صحیح)

اور فرمایا:
“میری امت خیر پر رہے گی جب تک وہ افطار میں جلدی اور سحری میں تاخیر کرتی رہے گی۔”
(مسند احمد 21312، صحیح)

سحری کے اہداف

  • جسم کی hydration کو بہتر بنانا (سب سے اہم مقصد)

  • جگر اور پٹھوں کے گلائیکوجن کو ری فل کرنا (اگر افطار میں کافی نہ ہوا ہو)

  • دن بھر کے لیے مناسب ایندھن فراہم کرنا

ایک مثالی سحری میں درج ذیل تینوں اجزاء کا متوازن حصہ ہونا بہتر ہے:

  • پروٹین

  • چکنائی (healthy fats)

  • کاربوہائڈریٹس

۔ ہر 1 گرام گلائیکوجن کے ساتھ تقریباً 4 گرام پانی جسم میں ذخیرہ ہوتا ہے۔ اگر گلائیکوجن کم ہو گا تو intramuscular hydration بھی کم ہو جائے گی۔

  • یہ سوچ کہ زیادہ کھا لینے سے دن بھر بھوک نہیں لگے گی، درست نہیں۔ ضرورت سے زیادہ کھانے سے نہ بھوک مکمل رُکے گی اور نہ روزہ آسان ہو گا، بلکہ اگر سحری کے بعد فوراً سوئیں گے تو معدہ بھی بوجھل ہو گا اور نیند بھی خراب ہو گی۔

  • بہت چکنی/مصالحہ دار یا بہت نمکین چیزیں پیاس اور معدے کے مسائل بڑھا دیتی ہیں، اس سے احتراز بہتر ہے۔

سحری کی مثالیں

  • کھجور اور دیگر پھل (آسانی سے ہضم ہونے والی قدرتی شکر، hydration میں بھی مددگار)

  • انڈے یا گوشت (روزہ میں پیٹ بھرے رکھنے والا پروٹین + چکنائی)

  • دلیہ/اوٹس (آہستہ ہضم ہونے والی غذا، دیر تک توانائی فراہم کرتی ہے)

لیکن کھانے میں شدت سے “ڈائٹ پلان” بنانے کے بجائے، گھر میں جو عام صحت مند ناشتہ ہوتا ہے، اسی میں چند اچھی تبدیلیاں کر کے سحری بنانا زیادہ فطری ہے۔

سحری میں کھجور

نبی ﷺ نے فرمایا:
“مؤمن کی سب سے بہترین سحری کھجور ہے۔”
(سنن ابوداؤد 1399، صحیح)

جدید تحقیق سے بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ کھجور میں موجود فرکٹوز جگر میں گلائیکوجن کو دوبارہ بھرنے کے لیے بہترین ہے، خصوصاً روزہ/ورزش کے بعد۔ (Conlee et al., Ann Nutr Metab 1987)


مثالی افطار

رمضان جسمانی خواہشات پر قابو اور روحانی ترقی کا مہینہ ہے، لیکن عملاً افطار کے وقت دو انتہائیں دیکھنے میں آتی ہیں:

  1. دسترخوان کو حد سے زیادہ پر تکلف بنانے پر غیر معمولی توجہ

  2. وزن کم کرنے کے لیے بہت سخت غذائی پابندیاں

مادی فکر کے غلبے کی وجہ سے مسلمانوں میں بھی یہ دونوں انتہائیں پائی جاتی ہیں۔ اصل حکمت اعتدال ہے۔

زیادہ کھانے سے پرہیز

افطار پر زیادہ کھانے کی بڑی وجہ یہ ہے کہ سیر ہونے کے سگنلز دماغ تک پہنچنے میں وقت لیتے ہیں، اور کبھی پیاس کو بھوک سمجھ لیا جاتا ہے۔ اس سے بچنے کے لیے یہ سادہ پروٹوکول مفید ہے:

  1. افطار کے وقت پہلے پانی، کھجور یا بہت ہلکی چیز سے روزہ کھولیں۔

  2. فوراً بعد مغرب کی نماز ادا کریں۔

  3. نماز کے بعد واپس آ کر آرام سے اصل کھانا/افطار مکمل کریں۔

  4. کھاتے وقت پیٹ بھرنے سے پہلے رک جائیں، کیونکہ دماغ کو بھر جانے کا احساس ہونے میں کچھ وقت لگتا ہے۔ بعد میں اگر واقعی بھوک رہے تو تھوڑا مزید کھایا جا سکتا ہے۔

مزید اصول:

  • گھر کا سادہ کھانا، اگر متوازن ہو، عموماً صحت مند ترین ہوتا ہے۔

  • بہت زیادہ اور بہت دیر سے کھانا نیند خراب کرتا اور GERD/ریفلوکس بڑھا سکتا ہے۔

  • زیادہ مرچ مسالے والی اور چکنی چیزیں معدے کی خرابی کا باعث بنتی ہیں۔

  • زیادہ سے زیادہ غیر پروسیسڈ، قدرتی غذائیں کھائیں؛ پیکڈ junk food کو کم سے کم کریں۔

  • مناسب مقدار میں پروٹین ضرور لیں۔


رمضان میں عضلات (Muscle Mass) محفوظ رکھنا

رمضان میں سابقہ عضلات کو برقرار رکھنا چند بنیادی باتوں پر منحصر ہے:

  1. پروٹین کی مناسب مقدار: تقریباً 1.6–2 گرام فی کلوگرام وزن روزانہ

  2. مناسب کلوری (کیلوریز) کی مقدار

  3. ٹریننگ کی کم از کم تحریک: نئے عضلات بنانے کی نسبت maintain کرنا بہت آسان ہے۔ عموماً اصل ٹریننگ volume کے 1/9 کے برابر بھی کافی ہوتا ہے (مثلاً ہفتے میں 1–2 سیشن)

  4. مناسب نیند اور ریکوری (جو رمضان میں چیلنج ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں)

ورزش کا وقت: عمومی قاعدہ یہ ہے کہ کھا کر (fed state) کی گئی ٹریننگ، خالی پیٹ (fasted) ٹریننگ سے بہتر نتائج دیتی ہے۔ لہٰذا ورزش کا بہترین وقت مغرب/افطار یا تراویح کے بعد ہے۔


قبض (Constipation)

رمضان میں قبض بہت عام مسئلہ ہے، جس کی بنیادی وجوہ تقریباً چار ہوتی ہیں:

  • خوراک میں فائبر کی کمی

  • پانی کی کمی (روزہ کی وجہ سے متوقع)

  • نیند کے شیڈول میں تبدیلی

  • کیفین (چائے/کافی) کے کم ہونے سے آنتوں کی حرکت کا سست ہونا

فائبر کی عمومی سفارشات:

  • خواتین: روزانہ 20–25 گرام

  • مرد: روزانہ 30–38 گرام

مدافعتی قدم:

  • پھلوں کا استعمال بڑھائیں، خصوصاً کھجور اور آلو بخارا/prunes (قبض کے لیے نہایت مفید)

  • دالیں، لوبیا، چنے وغیرہ زیادہ استعمال کریں (فائبر سے بھرپور)

  • چیّا سیڈز (chia seeds) کو پانی یا دہی میں ملا کر لیں

  • اگر غذا سے یہ مقدار پوری نہ ہو تو اسپغول/پسلیئم husk جیسے فائبر سپلیمنٹ (Isabgol) کا استعمال مفید ہو سکتا ہے


طبّی (Medical) حالات

1. شوگر (Diabetes)

  • ٹائپ 1 شوگر کے مریضوں کو عموماً روزہ نہ رکھنے کی تاکید کی جاتی ہے۔

  • کچھ ٹائپ 2 مریض ڈاکٹر کے مشورے اور درست ایڈجسٹمنٹ کے ساتھ روزہ رکھ سکتے ہیں اور کئی مرتبہ انہیں فائدہ بھی ہوتا ہے، لیکن یہ مکمل طور پر فرداً فرداً فیصلہ ہوتا ہے۔

  • دواؤں، خصوصاً انسولین اور sulfonylureas، کی مقدار رمضان میں ضرور ایڈجسٹ کرنی پڑ سکتی ہے تاکہ  hypoglycemia/low sugar سے بچا جا سکے۔

  • Continuous Glucose Monitor (CGM) بھی ایک مفید آپشن ہے تاکہ روزہ کے دوران خون کی شکر کی بہتر نگرانی ہو سکے۔

2. ہائی بلڈ پریشر (Hypertension)

  • رمضان میں مجموعی خوراک کم ہو جانے کی وجہ سے کچھ مریضوں کا بلڈ پریشر بھی کم ہو سکتا ہے۔

  • ایسے مریض اگر اپنی پہلے والی ہی دواؤں کی خوراک لیتے رہیں تو hypotension اور چکر/گرنے کا خطرہ ہو سکتا ہے۔

  • انہیں چاہیے کہ رمضان میں بلڈ پریشر باقاعدہ چیک کریں اور اپنے معالج کے ساتھ مل کر دواؤں کی خوراک adjust کریں۔


ان لوگوں کے لیے پروٹوکول جو رمضان کے روزوں میں بہت مشکل محسوس کرتے ہیں

یہ پروٹوکول اُن افراد کے لیے ہے جنہیں روزے میں شدید کمزوری، سر درد، چکر وغیرہ بہت زیادہ ہوتے ہیں اور میڈیکل بیماریوں کا معقول حد تک جائزہ لے کر یہ طے ہو گیا ہو کہ کوئی واضح ممانعت نہیں:

  1. سحری میں ORS پانی کے ساتھ

  2. صحت مند، متوازن سحری جس میں چکنائی، کاربوہائڈریٹ اور پروٹین تینوں شامل ہوں – سحری ہرگز نہ چھوڑیں

  3. 1–2 چمچ MCT oil (کیٹون بنانے میں مدد کے لیے)

  4. اگر کیفین کے عادی ہیں تو سحری میں 1–2 کیپسول/ڈوز مناسب slow‑release caffeine (ڈاکٹر سے مشورہ)

  5. سحری میں 2gm L‑Carnitine (چربی کو ایندھن کے طور پر استعمال کرنے میں مدد کے لیے)

  6. نیند کا بہتر شیڈول: عشاء/تراویح کے فوراً بعد سونا اور دن میں nap کے ساتھ مجموعی نیند تقریباً 8 گھنٹے تک پہنچانا

  7. ذہنی/علمی تسلی کہ جسم حقیقتاً روزے کے قابل ہے، تاکہ nocebo اثر کم ہو

  8. رمضان سے پہلے ہی رمضان جیسی مشق روزے (ٹرائل فاسٹنگ) کرنا

درست طریقے سے استعمال کیا جائے تو یہ پروٹوکول بہت سے لوگوں کا رمضان کا تجربہ مثبت طور پر بدل دیتا ہے۔


رمضان: صحت مند طرزِ زندگی کی طرف ایک پل

اگرچہ رمضان وزن گھٹانے کے لیے بنیادی طور پر مقرر نہیں کیا گیا، لیکن اسے بعد کے مہینوں میں صحت مند عادات اپنانے کے لیے پل (bridge) بنایا جا سکتا ہے، مثلاً:

  • کھانے کے ساتھ اپنے تعلق پر دوبارہ غور کرنا

  • خود کو زیادہ کھانے سے روکنے کی تربیت

  • mindful eating یعنی شعوری طور پر، آہستگی سے اور شکر کے ساتھ کھانا

  • رمضان کے بعد بھی وقفے وقفے سے نفلی روزے (intermittent fasting) کے ذریعے مجموعی کیلوریز کو کم رکھنا

  • یہ احساس کہ صحت مند رہنے کے لیے ہمیں ہر روز 3 بڑے کھانے اور کئی snacks کی ضرورت نہیں ہوتی